لکھنو،28/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) بی جے پی صدر اور وزیر داخلہ امت شاہ نے آج ایک پروگرام میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ پی ایم مودی اور انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کو ملک کے سب سے زیادہ سیٹوں ریاست اترپردیش کا وزیر اعلیٰ کیوں بنایا ہے۔غور طلب ہے کہ گورکھ دھام مندر کے پجاری رہے یوگی کا اس عہدے کے لیے منتخب کیا جانا بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن تھا۔حالانکہ یوگی کی شبیہہ ریاست میں ہندوتوا کے پوسٹر بوائے کے طور پر بن چکی تھی۔وہیں سی ایم عہدے کے لیے ان کے نام کا اعلان اس لئے بھی حیران کرنے والا تھا کیونکہ ان انتظامیہ کا کوئی بھی تجربہ نہیں تھا۔لیکن ان کے نام کا اعلان اس عہدے پر کئے جانے کی وجہ کا انکشاف کرتے ہوئے امت شاہ نے کہاکہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یوگی وزیراعلیٰ بنیں گے۔کئی لوگوں نے مجھ سے کہا کہ یوگی کو تو ایک شہر چلانے کا بھی تجربہ نہیں ہے، آپ انہیں سی ایم کیوں بنا رہے ہیں۔ہاں یہ صحیح ہے کہ ان کو میونسپلٹی چلانے کا بھی تجربہ نہیں تھا۔وہ ایک مندر کے سربراہ تھے۔لکھنؤ میں ایک پروگرام کے دوران سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کی موجودگی میں امت شاہ نے مزید کہاکہ لوگوں نے مجھ سے کہاہے آپ ان کواتنی بڑے ریاست کی کمان کیوں سونپ رہے ہیں۔لیکن پی ایم مودی اور میں نے انہیں سی ایم بنانے کا فیصلہ کیا۔کیونکہ وہ محنتی ہیں اور انہوں نے اپنے کم تجربے کو سخت محنت سے کبھی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔آپ کو بتا دیں کہ سال 2017 میں بی جے پی کو اتر پردیش میں بڑی جیت ملی تھی۔ عوام کے اس فیصلے کو پی ایم مودی کے ترقیاتی کاموں کو لے کرکیے گئے وعدوں پر یقین مانا گیا۔لیکن اس الیکشن میں پارٹی نے کسی کو بھی سی ایم عہدے کا چہرہ نہیں قرار نہیں دیا تھا۔نتائج کے بعد یہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا کہ بی جے پی کسے اتر پردیش کا سی ایم بنائے گی۔لیکن یوگی آدتیہ ناتھ کا نام شروع سے ہی بحث میں تھا۔وہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کی جانب سے منوج سنہا کے نام پرمہرلگائی گئی تھی۔لیکن بعد میں یوگی کے نام پر فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ پارٹی کیڈر میں بہت زیادہ مقبول تھے۔